Monthly Archives: April 2017

وطن کاگیت

اے پیارے وطن تیری ہرچیزپیاری ہے دیکھوجشن آزادی کی ہرگھرمیں تیاری ہے پرچم کاسماں آیا جھنڈیوں کی بہارآئی پرچم لہراتے ہیں خواہ گھرہویاگاڑی ہے جب ماہِ اگست آئے فورٹی سیون(1947)پلٹ آئے بدلہ خون شہیدوں کا یہ دھرتی ساری ہے ہرفردپہ لازم ہے احترام آزادی کا جس کی خاطرلاکھوں نے جان اپنی واری ہے سب شکربجالاؤ ۔۔۔

اُسی کے نور سے ہم انحراف کر بیٹھے

کبھی غرور پہ ہم اعتراف کر بیٹھے محبتوں سے کبھی اختلاف کر بیٹھے کبھی دھنک کے بدن پر لحاف کر بیٹھے کبھی مہک کی روش پر غلاف کر بیٹھے ہمارے چہرے پڑھے انکشاف کر بیٹھے اُن آئینوں کی خرد پر شگاف کر بیٹھے یہ خاکِ جسم کریدا تو دل ملا آخر اُسے بھی خاک میں ۔۔۔

مجھے خط ملا ہے غنیم کا

مجھے خط ملا ہے غنیم کا بڑی عجلتوں میں، لکھا ہوا کہیں۔۔ رنجشوں کی کہانیاں کہیں دھمکیوں کا ہے سلسلہ مجھے کہہ دیا ہے امیر نے کرو۔۔۔۔حسنِ یار کا تذکرہ تمہیں کیا پڑی ہے کہ رات دن کہو۔۔۔۔ حاکموں کو برا بھلا تمہیں۔۔۔۔ فکر عمر عزیز ہے تو نہ حاکموں کو خفا کرو جو امیرِ ۔۔۔

کہنے کو مرے ساتھ دغا بھی نہیں کرتا

کہنے کو مرے ساتھ دغا بھی نہیں کرتا وہ شخص مگر وعدہ وفا بھی نہیں کرتا دریا کے کناروں کی طرح ساتھ ہے میرے ملتا وہ نہیں ہے تو جدا بھی نہیں کرتا آئینے وہ احساس کے سب توڑ چکا ہے کس حال میں ہوں میں یہ پتہ بھی نہیں کرتا پوجا ہے تجھے جیسے ۔۔۔

نعت شریف

ہے کیسے دنیامیں تیری جینایہ میں نے اپنے نبیؐ سے سیکھا ہے تلخ باتوں کوکیسے پینایہ میں نے اپنے نبیؐ سے سیکھا زمانے بھرکے فلاسفہ توہیں جی کے مرناہی بس سیکھاتے ہے کیسے مرنے کے بعدجینایہ میں نے اپنے نبیؐ سے سیکھا ہے کیسے اوروں کوزخمی کرنایہ گرتوسارازمانہ جانے ہے کیسے اوروں کے زخم سینایہ ۔۔۔

معافی

دنیا میں موجود اشرف المخلوقات اصولی طور پر ادم کی اولاد کہلاتی ہے اور ادم کی اولاد ہونے کے ناطے خطا کے پتلے بھی کہلائے جاتے ہیں اور دنیا کے ہر ادیان میں برائی اور بدی کو اچھا تصور نہیں کیا جاتا ہے اور اس بدی اور برائی کے ازالے کے لئے بھی حضرت انسان ۔۔۔

بزرگ کی نصیحتیں

ایک شخص بہت ہی غریب تھا۔ اس نے اپنی بیوی سے مشورہ کیا کہ کسی رئیس آدمی کے ہاں غلامی کی جائے تاکہ یہ غربت دور ہو سکے۔ اسکی بیوی نے اجازت دے دی۔ اسکی بیوی کے ہاں ابھی پہلا بیٹا ہی پیدا ہونے والا تھا کہ وہ غریب آدمی اپنی بیوی کو بھری جوانی ۔۔۔

سم قاتل

ڈاکٹر جمیل اپنی لیبارٹری میں کام میں مگن تھا سوچ و بچار نے اس کے ماتھے کی شکنوں میں اضافہ کر دیا تھا اس نے بیس سال کی طویل جدوجہد اور ریسرچ سے ایک ایسی دوا ایجاد کر لی تھی جو خلیات میں حیران کن تبدیلی لانے والی تھی اس کی تحقیق مکمل ہو چکی ۔۔۔

یادو ں کی زنجیر

رات کا ایک بج چکا ہے۔ دنیاوالے میٹھی نیند کے مزے لے رہے ہیں۔ میری بیوی اور میرے ننھے منے بچے نیند کی پر سکون وادیوں میں جا چکے ہیں۔ سارا جہاں طمانیت کے احساس کے ساتھ نیند کی آغوش میں ہے۔ لیکن میں اس ننھی منی سی۔۔۔۔۔۔ پیاری سی ۔۔۔۔چنچل اور۔۔۔۔ نٹ کھٹ بچی ۔۔۔

ہنی سارا

گلگت کی تاریخ میں دو قدیم نام امسار اور ہنی سارا ملتے ہیں ۔کہا یہ جاتا ہے کہ موجودہ نوپورہ کا قدیم نام امسار تھا اور نوپورہ حکمرانوں کے لئے مخصوص تھا اور یہاں رہنے والے حکمرانوں کو اسی نسبت سے امساری میر کہا جاتا تھا۔اس بارے راقم نے الگ سے ایک تحریر لکھی ہوئی ۔۔۔

جوتے

باؤ سائیڈ تے لا ۔۔۔لائسنس وکھا؟ گھر ہے صاب! تے گڈی دے کاغذ؟ وہ بھی صاب! گھر بچے دے رے نے! غلطی ہو گئی صاب! بچے غلطی دی سزا وی ہوندی اے! معاف کر دو صاب! اچھا فیر ہور کج وکھا دے! صاب بچوں کو سکول چھوڑنے آیا تھا۔ خالی ہاتھ ہوں! فیر دس کی ۔۔۔