سندھ

اگر کسی کو ترقی دیکھنی ہے تو میرے ساتھ سندھ چلے، خورشید شاہ

قائد حزب اختلاف خورشید شاہ چکدرہ میں عوامی اجتماع سے خطاب —۔جیو نیوز اسکرین گریب لوئر دیر: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی رہنما سید خورشید شاہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر کسی نے ترقی دیکھنی ہے تو ان کے ساتھ سندھ چلے اور دیکھے کہ غریبوں کو کیسے تعلیم اور ۔۔۔

بلاول بھٹو لیاقت آبادتوآگئے مگر پانی و بجلی نہیں آئی

بلاول بھٹو لیاقت آبادتوآگئے مگر پانی و بجلی نہیں آئی: الطاف شکور عوام کو لالی پاپ نہیں مسائل کا حل چاہئے،لیاقت آباد کے عوام سے معافی کیوں نہیں مانگی گئی؟ گوٹھوں کے وڈیروں اور شہروں کے لٹیروں نے 95فیصد کرپشن کی مگر عوام کو کچھ نہیں دیا پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم کی حکومتیں مخلص ۔۔۔

اسلام آباد، لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں بارش سے موسم خوشگوار

اسلام آباد، لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ ہونے والی بارش نے موسم خوشگوار بنادیا۔ تفصیلات کے مطابق، جمعہ کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، روالپنڈی، لاہور، ننکانہ صاحب، سکھیکی، پنڈی بھٹیاں، فاٹا، کشمیراور گلگت بلتستان سمیت مختلف شہروں میں موسلادھار بارش نے موسم سہانا کردیا۔ محکمہ موسمیات ۔۔۔

پاسبان کی دائر کردہ سندھ اسمبلی یونیورسٹیز اینڈ انسٹی ٹیوشنز لاز ترمیمی بل کیس

پاسبان کی دائر کردہ سندھ اسمبلی یونیورسٹیز اینڈ انسٹی ٹیوشنز لاز ترمیمی بل کیس سرکاری وکیل غیر حاضر ،سندھ حکومت جواب داخل نہیں کراسکی ،سماعت 8مئی تک کے لئے ملتوی جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل دورکنی بنچ نے پاسبان کے وکیل کو ایکٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی سندھ کی 24یونیورسٹیز کو کرپشن سے ۔۔۔

وطن کاگیت

اے پیارے وطن تیری ہرچیزپیاری ہے دیکھوجشن آزادی کی ہرگھرمیں تیاری ہے پرچم کاسماں آیا جھنڈیوں کی بہارآئی پرچم لہراتے ہیں خواہ گھرہویاگاڑی ہے جب ماہِ اگست آئے فورٹی سیون(1947)پلٹ آئے بدلہ خون شہیدوں کا یہ دھرتی ساری ہے ہرفردپہ لازم ہے احترام آزادی کا جس کی خاطرلاکھوں نے جان اپنی واری ہے سب شکربجالاؤ ۔۔۔

اُسی کے نور سے ہم انحراف کر بیٹھے

کبھی غرور پہ ہم اعتراف کر بیٹھے محبتوں سے کبھی اختلاف کر بیٹھے کبھی دھنک کے بدن پر لحاف کر بیٹھے کبھی مہک کی روش پر غلاف کر بیٹھے ہمارے چہرے پڑھے انکشاف کر بیٹھے اُن آئینوں کی خرد پر شگاف کر بیٹھے یہ خاکِ جسم کریدا تو دل ملا آخر اُسے بھی خاک میں ۔۔۔

مجھے خط ملا ہے غنیم کا

مجھے خط ملا ہے غنیم کا بڑی عجلتوں میں، لکھا ہوا کہیں۔۔ رنجشوں کی کہانیاں کہیں دھمکیوں کا ہے سلسلہ مجھے کہہ دیا ہے امیر نے کرو۔۔۔۔حسنِ یار کا تذکرہ تمہیں کیا پڑی ہے کہ رات دن کہو۔۔۔۔ حاکموں کو برا بھلا تمہیں۔۔۔۔ فکر عمر عزیز ہے تو نہ حاکموں کو خفا کرو جو امیرِ ۔۔۔

کہنے کو مرے ساتھ دغا بھی نہیں کرتا

کہنے کو مرے ساتھ دغا بھی نہیں کرتا وہ شخص مگر وعدہ وفا بھی نہیں کرتا دریا کے کناروں کی طرح ساتھ ہے میرے ملتا وہ نہیں ہے تو جدا بھی نہیں کرتا آئینے وہ احساس کے سب توڑ چکا ہے کس حال میں ہوں میں یہ پتہ بھی نہیں کرتا پوجا ہے تجھے جیسے ۔۔۔

نعت شریف

ہے کیسے دنیامیں تیری جینایہ میں نے اپنے نبیؐ سے سیکھا ہے تلخ باتوں کوکیسے پینایہ میں نے اپنے نبیؐ سے سیکھا زمانے بھرکے فلاسفہ توہیں جی کے مرناہی بس سیکھاتے ہے کیسے مرنے کے بعدجینایہ میں نے اپنے نبیؐ سے سیکھا ہے کیسے اوروں کوزخمی کرنایہ گرتوسارازمانہ جانے ہے کیسے اوروں کے زخم سینایہ ۔۔۔
@